"The Rescuing Hug"

Here you will read about rescing hug..

The Rescuing Hug "جانبرانہ بغلگیری"

یہ تصویر ایک آرٹیکل سے لی گئی ہے جسکا عنوان ہے،

"جانبرانہ بغلگیری"

"The Rescuing Hug"

یہ 1995 کی بات ہے اور یہ آرٹیکل دو جڑواں بچیوں کی زندگی کے پہلے ہفتے سے متعلق ہے. انکی پیدائش قبل از وقت ہو گئ تھی اور دونوں میں سے ہر ایک کا وزن محض 800 گرام تھا. اتنے ننھے منے، نازک سے بچوں کا بچ جانا اس دور میں کسی معجزے سے کم نہ سمجھا جاتا.

دونوں بچیاں اپنے اپنے علیحدہ انکیوبیٹرز میں تھیں اور ان میں سے ایک شدید علیل تھی اور اسکے بچنے کی امید بھی نہایت موہوم. وہ بہت روتی اور جب بھی روتی، نیلی پڑ جاتی اور دل کی دھڑکن اور سانس اکھڑ جاتی.

اس موقعے پر ہسپتال کی نرس نے تمام کوششوں کے بعد ہسپتال کے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دونوں کو ایک ہی انکیوبیٹر میں اکٹھے لٹا دیا. جونہی ایسا ہوا، ان میں سے ایک بچی نے بازو گھما کر اپنی بہن کے اوپر رکھ کر گویا اسے گلے سے لگا لیا. حیرت انگیز طور پر زیادہ بیمار بچی کے دل کی دھڑکن اور درجہ حرارت نارمل لیول پر آ گئے...!!! اگلے چند ہفتوں میں وہ اپنی بہن کے سنگ تندرستی کی منزلیں طے کرتی بالآخر ڈسچارج ہو گئی.

اس "پیار کی جپھی" نے میڈیکل سائنس میں ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر لی. اور آج بھی قبل از وقت پیدا ہونے والے نومولود بچوں کو انکی ماؤں کے جسم سے لگا کر حرارت پہنچانا انکے درجہ حرارت کو معتدل رکھنے کا نہایت کامیاب طریقہ سمجھا جاتا ہے. بالخصوص ان سیٹ اپس میں جہاں مہنگے انکیوبیٹرز خریدنے کی استطاعت نہ ہو.